| مبارک ہو کہ یہ آمد حبیبِ دو جہاں کی ہے |
| رسول اللہ دہر کی جاں نبی آخر زماں کی ہے |
| زمیں چومے قدم اُن کے فدا ہیں چاند تارے بھی |
| لئے رونق جہانوں کی امیرِ گلستاں کی ہے |
| حسیں حسنِ جہاں دلبر جمیلِ دو سریٰ سرور |
| جو ہیں رحمت جہانوں کی شفیعِ مجرماں کی ہے |
| سلامی میں فرشتوں کی نبی نورِ ہدیٰ ہادی |
| حسیں آقا حبیبِ من کریمی جانِ جاں کی ہے |
| رسالت کا علم لے کر سخی رہبر نبی سرور |
| محبت کی زباں جانم حبیبی مہرباں کی ہے |
| نبی ختمِ رسل آقا لئے قرآن ہاتھوں میں |
| بنے محبوب مولا کے ہدایت کے نشاں کی ہے |
| یہ صادق ہیں امیں آقا نبی ختمِ رسل بھی ہیں |
| بتا محمود یہ آمد رسولِ مہرباں کی ہے |
معلومات