ورودِ نبی چارہ گر ہو گیا
زمان و مکاں معتبر ہو گیا
حسیں تارے افلاک پر انبیا
پسر آمنہ کا بدر ہو گیا
فروزاں دل و جاں بصیرت ہوئے
نبی سے درخشاں دہر ہو گیا
یتیموں کو اُن سے سہارا ملا
مدینہ اغوشِ پدر ہو گیا
غلاموں غریبوں کو عزت ملی
معزز یوں بندہ بشر ہو گیا
چمن میں کِھلے ہیں محبت کے گل
گئی رات وقتِ سحر ہو گیا
ہیں محمود رحمت خدا کی نبی
سنی نعت ٹھنڈا جگر ہو گیا

1
3
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ آپؐ کی آمدِ مبارک کو انسانیت کے لیے رحمت، عزت، بصیرت اور امید کا سرچشمہ قرار دیتی ہے۔ شاعر نے حضور ﷺ کی تشریف آوری سے زمان و مکاں کی عظمت، دلوں کی روشنی، یتیموں کو سہارا، غلاموں اور غریبوں کو عزت اور معاشرے میں محبت کے فروغ کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اختتامیہ شعر میں نعتِ نبی ﷺ کو دل و جان کے سکون اور ٹھنڈک کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔