| دیکھ کر تم کو تو بدنام مسلماں ہوں گے |
| اپنے اخلاق کرو سارے جہاں سے اچھے |
| متحد غیر ہیں امت کے خلاف ایک طرف |
| اور دشمن ہے ادھر کاٹتا اپنوں کے گلے |
| کچھ نہ سوچا کہ بدن پر ہے بہت اجلا لباس |
| بول کس طرح دھلیں گے یہ لہو کے دھبے |
| اب تو ہے گردشِ افلاک بھی دشمن اپنی |
| جاں بچانے کے لیے کوئی کہاں تک بھاگے |
| زلزلے آ کے ڈراتے ہیں سدھر جاؤ ابھی |
| مت کرو دیر کہ توبہ کے کھلے ہیں رستے |
| ہر طرف ظلم و ستم کے ہیں اندھیرے مولا! |
| کاش دنیا میں کوئی عدل کا اب دیپ جلے |
معلومات