حق گوئی سے گر بات ہو رہی ہے
باطل کی بے شک مات ہو رہی ہے
ابہام سے اثبات ہو رہی ہے
بے لوث گر اخبات ہو رہی ہے
تائید صحرا کی بہاروں سے ہو
"برسات بن برسات ہو رہی ہے"
اہل کرم کی دیکھئے نوازش
بے ساختہ خیرات ہو رہی ہے
مابین رغبت امتزاج پائے
خوشیوں کی پھر سوغات ہو رہی ہے
بیزاری کیوں کردار سے ہے ناصؔر
زر کی مگر بہتات ہو رہی ہے

0
11