| ایک شہکارِ خدا کا نظر آیا ہے مجھے |
| اور میں لکھنے لگا ایک غزل کاغذ پر |
| زندگی بیت گئی اُس کی معیت میں مری |
| ثبت کر پایا ہوں دو چار ہی پل کاغذ پر |
| آج کے لفظ وثیقہ ہیں نئے کل کے لیے |
| جذبِ بے ربط! تو اتنا نہ اچھل کاغذ پر |
| ہیں ترے رنگ کئی، سب سے الگ، سب سے جدا |
| تو کسی اور ہی پیکر میں نہ ڈھل کاغذ پر |
| تاکہ محفوظ کروں میں ترے بے مثل خرام |
| پائے صد ناز سے چلنا ہے تو چل کاغذ پر |
| تاکہ میں کر بھی سکوں دائمی ہر شے کی تلاش |
| اے مری حسرتِ ناکام! نکل کاغذ پر |
معلومات