زمانے بھر کا جھوٹا آدمی ہوں
میں خود سے ایک روٹھا آدمی ہوں
مجھے تم منہ لگانا بند کر دو
عجب ہوں ایک رسوا آدمی ہوں
مقدر نے مجھے ٹھکرا دیا تھا
میں جنت سے نکالا آدمی ہوں
تمہارے ہاتھ میں یہ سنگ کیوں ہے
نہیں اپنا تمہارا آدمی ہوں
پتہ اب کیا کہ کیسا آدمی ہوں
میں ایسا ہوں کہ ویسا آدمی ہوں
مجھے بدنام لوگوں نے کیا ہے
حقیقت میں میں اچھا آدمی ہوں
میں باہر سے بہت مضبوط شاہدؔ
میں اپنے من میں ٹوٹا آدمی ہوں

0
8