| جدائی کی کٹھن گھڑیوں کو سینے سے لگایا ہے |
| تمہیں پانے کی حسرت میں خودی کو بھی مٹایا ہے |
| دکھائے ہیں زمانے نے ہمیں کیا کیا نہ رنگ اپنے |
| مگر اس دل نے ہر طوفاں میں تیرا نام گایا ہے |
| نہ سمجھا کوئی اس دل کی تڑپ کو اس زمانے میں |
| ترے غم کو ہی ہم نے اپنا سرمایا بنایا ہے |
| چلے آؤ کہ اب یہ جاں لبوں پر آ گئی جاناں! |
| تمہاری یاد نے شب بھر ہمیں کتنا رُلایا ہے |
| وفا کی راہ میں کیوں مل رہی ہے یہ سزا عادل |
| قصورِ عشق پر دنیا نے کیوں ہم کو ستایا ہے |
معلومات