جو بھی مٹی کا قرض مجھ پر ہے
وہ اتاروں یہ فرض مجھ پر ہے
مجھ سے ناراض کیوں زمانہ ہے
اب تو یہ قید ہی ٹھکانہ ہے
گو بہت سوں کا راز دار ہوں میں
خود بھی لیکن گناہ گار ہوں میں
دن ضعیفی کے مجھ پہ جب آئے
دوست دشمن کی صف میں سب آئے
بڑھ گئی بات بدگمانی سے
اور میں کٹ گیا کہانی سے

0
3