مزاجِ یار میں جو بے رخی بہت ہے اب
سو بزمِ دوستاں میں خامشی بہت ہے اب
کسی کی آس نہ رکھنا سنبھل کے چلنا خود
کہ اہل شہر میں تو بے حسی بہت ہے اب
لہو لہان ہیں غمگین ہیں سب اہل چمن
کوئی وسیلہ نہیں بے بسی بہت ہے اب
وہ جس کا شور تھا جانے کہاں ہے تبدیلی
وطن میں عام یہ دھوکہ دہی بہت ہے اب
یہی تو کرب ہے تذلیل کیوں ہے انساں کی
بغیر دام کے محنت کشی بہت ہے اب
کہاں ہو درد کہ دل ہی نہیں ہے لوگوں میں
اسی لیے تو یہاں بے دلی بہت ہے اب

0
3