| دل نے اک تجھ سے تعلُّق جو بنا رکھا ہے |
| عمر بھر خود کو اسی غم میں بھُلا رکھا ہے |
| تیرے ہر جلوۂ رنگیں میں وہی رنگ ملا |
| جس نے ذرّوں کو بھی خورشید بنا رکھا ہے |
| ہے رگِ جاں سے قریب اور ہے مستُور بھی تُو |
| خود کو پردے میں ہر اک شے کے چھپا رکھا ہے |
| میں نے جب چاہا تجھے صورتِ مرئی دیکھوں |
| تو نے آئینۂ دل بھی تو دُھلا رکھا ہے |
| عشق کی راہ میں کچھ اور نہیں پایا میں نے |
| ایک حیرت ہے کہ سینے سے لگا رکھا ہے |
| میں بھی موجود ہوں میرا بھی پتہ ہے لیکن |
| تو نے ہر نقش پہ اپنا ہی لکھا رکھا ہے |
| تیری آواز رگِ جاں میں سنائی دے ہے |
| تو نے خاموشی کو بھی نغمہ سرا رکھا ہے |
| ہم نے مانگا تھا تجھے تُو نے عطا کی نعمت |
| ایک دنیا کو مرے دل میں بسا رکھا ہے |
| تجھ سے بچھڑے تو کھلا رازِ حضوری ہم پر |
| تو نے فُرقت میں بھی ملنے کا مزا رکھا ہے |
| عقل تھک تھک کے پلٹ آئی درِ دل سے مگر |
| عشق نے اب بھی اُسی در کو کھُلا رکھا ہے |
| طارِق اُس سوز کی نسبت تُو کسی شمع سے پوچھ |
| جس نے پروانے کو شعلے سے جلا رکھا ہے |
| ڈاکٹر طارِق انور باجوہلندن |
معلومات