شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
​کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
رکھیں قدموں کو جو بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
​مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر
​وہ منزل ان سے اکثر اس لیے بھی دور رہتی ہے
رہا جن کا ہمیشہ سے یقیں جھوٹے خداؤں پر
​انہیں اے شادؔ! ملتی ہی نہیں ہے مات دنیا میں
جو رکھتے ہیں بھروسہ ہر گھڑی اپنی دعاؤں پر

0
2