جس دن سے تم روٹھی مجھ سے دل میں لگا ہے جنگ
اعضاء میرے سب ہیں پریشاں میرا اک اک انگ
پھر سے میرے دن لوٹا دو وہی پرانی یادیں
پھر سے چلو تم وعدہ کرلو ساتھ رہوگی سنگ
دنیا والوں کی باتوں میں آکر بد ظن مت ہونا
بات رکھو تم ایسے اپنی جس کا جو ہے ڈھنگ
عزت اپنی کرنا سیکھو جیون کو تم جینا سیکھو
تم ہو صنف نازک تیرے اعضاء سارے انگ
چلو کہیں اک جہاں بسائیں چھوڑ کے سارے جھگڑے
خوشحالی سے جینا سیکھیں ساتھ ہو تیرا سنگ
چھوٹی موٹی باتیں چھوڑو، آگے ہے کیا کرنا سوچو
جو گزرا سو گزرا آئیندہ ہوگا نہ جنگ
دعا کرے تیرا یہ بھائی جیون ہو بابرکت تیری
اور مبارک ہو تیرا یہ سارا سفر کا جنگ

0
1