| دیے وفاؤں کے من میں جلا گیا کوئی |
| کہ تیرگی میں اجالے تھما گیا کوئی |
| کسی کا خاص تعلق تھا گلشن و گل سے |
| ہماری روح معطر بنا گیا کوئی |
| ہمارے پاس بھی برہانِ عشق تھی لیکن |
| دلیلِ حسن سے ہم کو ہرا گیا کوئی |
| سخن کمال، ادائیں کمال تھیں اس کی |
| دل و دماغ پہ میرے تو چھا گیا کوئی |
| اٹھائے ہاتھ تو مانی گئی خدا کے حضور |
| دعا کے معجزے سب کو دکھا گیا کوئی |
| وہ دور رہ کے بھی ہم کو قریب لگتا ہے |
| نظر کے فاصلے جیسے مٹا گیا کوئی |
معلومات