دیے وفاؤں کے من میں جلا گیا کوئی
کہ تیرگی میں اجالے تھما گیا کوئی
کسی کا خاص تعلق تھا گلشن و گل سے
ہماری روح معطر بنا گیا کوئی
ہمارے پاس بھی برہانِ عشق تھی لیکن
دلیلِ حسن سے ہم کو ہرا گیا کوئی
سخن کمال، ادائیں کمال تھیں اس کی
دل و دماغ پہ میرے تو چھا گیا کوئی
اٹھائے ہاتھ تو مانی گئی خدا کے حضور
دعا کے معجزے سب کو دکھا گیا کوئی
وہ دور رہ کے بھی ہم کو قریب لگتا ہے
نظر کے فاصلے جیسے مٹا گیا کوئی

0
2