دِل میں تَصَوُّرات کی جَنَّت لِیے ہُوئے
آنکھیں ہیں بَند جَلْوَۂ رَحْمَت لِیے ہُوئے
آئے ہیں بزم ناز میں دل ناتواں کے ساتھ
عَنْبَر فِشاں خِیالوں کی نَکْہَت لِیے ہُوئے
حاضِر ہیں آستانۂ رَحْمَت میں جو گِدا
آئے ہیں وہ اُمِیدِ شَفاعَت لِیے ہُوئے
یا رَب مدینے کی گلی لکھ دے نصیب میں
بیٹھے رہیں عَقِیدَت و اُلفَت لِیے ہُوئے
حاضر ہو ان کے سامنے کس منہ سے یہ عتیق
آنکھوں میں اشک دل ہیں ندامت لیے ہوئے

0
3