| خدا کو سامنے اپنے میں پاتا ہوں |
| دعا کے واسطے جب گڑگڑاتا ہوں |
| ادھوری خواہشیں دل میں چھپا کر میں |
| نمازوں میں خدا ہی کو بتاتا ہوں |
| مری شہ رگ سے بھی نزدیک رہتا ہے |
| اسے ملتا ہوں جب سجدے میں جاتا ہوں |
| براہِ راست عرشوں پر یہ جاتی ہیں |
| میں اپنے دل کی آہوں کو سکھاتا ہوں |
| نہیں ہے تاب آنکھوں میں، اسے دیکھوں |
| وگرنہ طور تک میں روز جاتا ہوں |
| اسی کے سامنے بس اشک بہتے ہیں |
| میں ہر محفل میں ورنہ مسکراتا ہوں |
معلومات