| پڑے ہیں سوئے چمن کے داعی |
| خموش ہیں انجمن کے داعی |
| وہ اب جو ہجرت نصیب ٹھہرے |
| وہ سب کے سب تھے وطن کے داعی |
| کدھر ہیں جانیں لٹانے والے |
| کہاں ہیں سرو و سمن کے داعی |
| بنا خطا کے ہی پس گئے ہیں |
| مرے وطن سے لگن کے داعی |
| ہمارے کاندھوں پہ میتیں بھی ہیں |
| بنے ہیں ہم بھی کفن کے داعی |
| زمین پاؤں تلے نہیں ہے |
| بنے پھریں ہم گگن کے داعی |
| یہاں نہ عادل، نہ کوئی منصف |
| نہ کوئی تشنہ دہن کے داعی |
معلومات