نجانے آج تم کیوں اس قدر ہی یاد آتے ہو
مری آنکھوں میں بن کر اشکِ غم فریاد آتے ہو
​تمہارے ہجر میں دل کا نگر ویراں ہے مدت سے
مگر تم خواب میں کرنے اسے آباد آتے ہو
​جوانی لٹ گئی ساری تمہارے انتظاروں میں
کہ اب مٹی کو بھی کرنے یہاں برباد آتے ہو؟
​پھنسا ہے جان کا پنچھی تمہاری زلف کی شب میں
اسے بس مارنے کو بن کے تم صیاد آتے ہو
​تمہارے ظلم سہہ کر بھی لبوں پر مسکراہٹ ہے
ستمگر کس لیے کرنے نئی بیداد آتے ہو؟
​اکیلا چھوڑ کر مجھ کو گئے تھے تم سرِ محفل
تو اب کس کے لیے کرنے مری امداد آتے ہو؟
​تڑپتا ہے یہاں یہ شادؔ تنہائی کی راتوں میں
اسے تم کس لیے کرنے بھلا ناشاد آتے ہو؟

0
6