| بخشے وہ استقامت و صبر و قرار بھی |
| ہو جائے اب تمام یہ فصلِ غبار بھی |
| مجھ پر کرم ہو اس کا، رہے اس کا پیار بھی |
| مل جائے دو جہاں میں مجھے اعتبار بھی |
| مرشد میں رہروِ شبِ تیرہ ہوں تشنہ لب |
| مرشد دعا کریں کہ سحر ہو مرا نصیب |
| جتنے بھی میرے خواب تھے سب خاک ہو گئے |
| دامن مری امید کے چاکِ سبو ہوئے |
| ارمانِ دل تو بہہ کے لہو میں وضو ہوئے |
| بکھرے کچھ اس طرح کہ نہ پھر روبرو ہوئے |
| مرشد مری بساطِ ہنر کھو گئی کہیں |
| کچھ حادثوں کے زیرِ اثر سو گئی کہیں |
| توفیق دے خدا کہ رہِ یار چن سکوں |
| خوشبوئے ذِکرِ دوست سے ہر لمحہ بن سکوں |
| حق کی صدا کو روح کی اندر بھی سن سکوں |
| اب تو بساطِ عشق پہ میں سر بھی دھن سکوں |
| مرشد مری حیات کو بھی معتبر کریں |
| کچھ ایسی التجا مری سرکار کر کریں |
| جس نے مری لکیر کو سونا بنا دیا |
| پتھر کو میرے ہاتھ کے ہیرا بنا دیا |
| قطرے کو وسعتوں میں جزیرا بنا دیا |
| ذرے کو ایک کوہِ توانا بنا دیا |
| مرشد وہی کریم مرا حال ٹھیک دے |
| مرشد دعا کریں مجھے منزل کا سِبک دے |
معلومات