لب پہ سچ اور اچھا کردار رکھیں گے ہم
تم جو ظلم کرو گے تو صبر کریں گے ہم
پاس تمہارے کہنے کو بس باتیں ہیں
اپنی بات دلیل سے پیش کریں گے ہم
تم کو لگا تھا ظلم کرو گے جتنے بھی
بس خاموش رہیں گے اور سہیں گے ہم
جھوٹ تمہارا آخر کب تک چلنا تھا
سچ کے ذریعے پردہ چاک کریں گے ہم
ظلم کا بیج لگاتے ہو خود کاٹو گے
امن کے پرچم پر تو جان بھی دیں گے ہم
پیچھے ہٹو تم نفرت کے سوداگر ہو
شہر میں الفت چاہت ہی بانٹیں گے ہم
دین تمہارا صرف فساد مچانا ہے
ہم مومن ہیں امن کے ساتھ رہیں گے ہم

0
2