مٹی کی طرح چاک پہ میں گھومتا گیا
مجھ کو بنا بنا کے کوئی توڑتا گیا
شاید کسی کے خون سے سینچا گیا مجھے
شاخوں کے ساتھ پھل جو لگا سوکھتا گیا
سب اختیار اس کا تھا اس داستان پر
جس سمت اس نے موڑا قلم دوڑتا گیا
پٹی تھی اعتماد کی آنکھوں پہ اس لیے
رہبر ہی قافلے کو یہاں لوٹتا گیا
روئی دھنی گئی مری سو بار اور پھر
گالے بنا بنا کے کوئی کاتتا گیا
لوگوں کو ہار جیت سے مطلب نہیں تھا کیا؟
آیا جو اپنی موج میں بس کھیلتا گیا
اک شخص روبرو بھی تھا اندر بھی تھا مرے
پھر دھیرے دھیرے مجھ سے وہی روٹھتا گیا

0