بدلے موسم کا وہ احساسِ پرانا لا دے
اے مری عمرِ رواں! بچپنا میرا لا دے
چھین لی شہر کی رونق نے جو آنکھوں کی چمک
میری بستی، مرا دَرْپَن، مرا صحرا لا دے
اب نئے خواب مری جان کو آتے نہیں راس
وہی بھولا ہوا، معصوم سا سپنا لا دے
بھیڑ اتنی ہے کہ پہچان نہیں پاتا کوئی
جو مجھے خود سے ہی پڑھ لے، کوئی چہرہ لا دے
اب تو مٹی کی مہک کو بھی ترستا ہے یہ دل
مجھ کو کاغذ کی وہ کشتی، وہ ہی دریا لا دے
تھک گیا ہوں میں زمانے کی ہنسی ہنستے ہوئے
بے سبب چل دوں جہاں، وہ مجھے رستہ لا دے
رشتوں کی اس نئی بستی سے میں بیزار ہوں اب
میرا وہ سادہ، وہ مخلص سا زمانہ لا دے

0
1