کس کے فراق نے غم تازہ سدا رکھا
یہ زندگی ہے گویا بجھتا ہوا دیا
ہجرِ نبی کے تازہ دل میں گلاب ہیں
سیلاب آنکھ سے جو دائم رواں رہا
دن رات یادِ دلبر میری ہے زندگی
یہ اُن کے فیض ہیں جو ذوقِ جنوں ملا
ڈھارس بنی رہی ہیں یادیں حبیب کی
صد شکر دل زباں پر صلے علیٰ چلا
کونین یوں حسیں ہے جن کے جمال سے
یارو جمیل اُن سا کوئی کہاں بھلا
مولا نے تھپلی دی خود آقا کو بار ہا
معراج میں نہیں یہ دیگر ہے ماجرا
تھا علم کربلا میں عترت بنے گی پھول
پھر بھی خیال امت تیرا اُنہیں رہا
ملتی کہاں دہر میں اُن کی مثال ہے
یکتا جنہیں خلق میں خالق نے خود رکھا
کونین کے وہ دولہا کوثر ہے آپ کی
محمود رب نے جن کو لولاک خود کہا

0
1
6
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ (احوالِ ہجر و رفعتِ مصطفیٰ) — ایک تعارفی خلاصہ
یہ خوبصورت نعتِ پاک عشقِ رسول ﷺ، دردِ فراق اور ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی آفاقی رفعتوں کا ایک نہایت پُرکشش اور والہانہ مظہر ہے۔ کلاسیکی بحر (بحرِ متقارب) کے رواں اور پرسوز آہنگ میں کہی گئی یہ نعت، قاری کو ایک طرف ہجر کے سوز و گداز سے آشنا کرتی ہے تو دوسری طرف کائنات پر سرکارِ مدینہ ﷺ کی عظمت و حاکمیت کا احساس دلاتی ہے۔

مرکزی موضوعات اور فکری پہلو:

ہجر کا سوز اور یادِ حبیب ﷺ: نعت کا آغاز فراقِ رسول ﷺ کے شدید احساس اور تڑپ سے ہوتا ہے، جہاں شاعر نے دنیاوی زندگی کو ایک "بجھتے ہوئے دیے" سے تشبیہ دی ہے۔ لیکن اس درد کا حسن یہ ہے کہ شاعر کے دل میں ہجرِ نبی ﷺ کے تازہ گلاب کِھلتے ہیں(زخم کُھلتے ہیں) اور زباں پر دائم صلے علیٰ (درود و سلام) کا ورد جاری رہتا ہے جو زندگی کو ذوقِ جنوں اور ڈھارس عطا کرتا ہے۔

ربانی دلجوئی اور غیبی تسلی کا ماجرا: کلام کا ایک منفرد اور نہایت ایمان افروز پہلو وہ خاص تذکرہ ہے جس میں شاعر نے معراج کے علاوہ حضور ﷺ کے ایک اور مبارک غیبی معجزے اور ربانی لمس کی طرف اشارہ کیا ہے، جہاں خود ربِ ذوالجلال نے اپنے حبیب ﷺ کو بارہا تھپلی دے کر (شانوں پر ہاتھ رکھ کر) تسلی دی اور ان کی دلجوئی فرمائی۔

غمِ امت اور عترتِ پاک کی قربانی: نعت کا یہ شعر فکری اور جذباتی لحاظ سے شاہکار ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کو یہ علم تھا کہ کربلا کے تپتے صحرا میں ان کی آل اور عترت کے پھول مسل دیے جائیں گے، اس عظیم قربانی اور دکھ کے باوجود آقا ﷺ کے دل میں اپنی گنہگار امت کا خیال دائم رہا۔

یکتائے تخلیق اور مرتبہۂ لولاک: نعت کے آخری اشعار حضور ﷺ کی لاثانی تخلیق، کوثر و کونین پر آپ کی ملوکیت اور کائناتی مرتبے کا احاطہ کرتے ہیں، جہاں خالقِ کائنات نے پوری مخلوق میں آپ کو یکتا و بے مثال رکھا اور خود اپنی زبانِ قدرت سے آپ کو "لولاک" (اگر آپ نہ ہوتے تو میں کائنات پیدا نہ کرتا) کے منصب سے سرفراز کیا۔

0