| غزل- مزاحیہ |
| ذرا دماغ لڑاتے، تو بات بن جاتی |
| جو پہلے ماں کو پٹاتے، تو بات بن جاتی |
| وہ لیف بوۓ سے چڑتی ہے،علم ہوتا جو |
| َرگڑ کے لکس نہاتے، تو بات بن جاتی |
| چڑیل تھی وہ بری، پر شگفتہ خو بھی تھی |
| شگوفے روز سناتے، تو بات بن جاتی |
| گلی میں جوتیاں گھِسنے سے کچھ نہ بن پایا |
| اکڑ کے پیار جتاتے، تو بات بن جاتی |
| بہ وقتِ فجر، بہ ہر طور، ڈانٹ لازم تھی |
| وہ خواب سے نہ جگاتے، تو بات بن جاتی |
| برا نصیب، وہ کمبخت خوب تگڑا تھا |
| عدو سے منہ نہ لگاتے، تو بات بن جاتی |
| عَبث شہاب نوافل پڑھے، دعائیں کیں |
| پکڑ کے پاؤں دباتے، تو بات بن جاتی |
| شہاب احمد |
| ۳ اپریل ۲۰۲۶ |
معلومات