یہ نکہت ہے مدینے سے بڑا دل کو قرار آیا
زہے میرے خیالوں میں مدینہ بار بار آیا
مدینے کے سخی داتا سدا یادوں کے مرکز ہیں
رکھے طالع درخشاں وہ نبی کے جو دیار آیا
خیالوں کا جو قبلہ ہیں درِ ہادی کی گلیاں ہیں
بڑا سوچا یہ دل نے تھا جو سپنا خوشگوار آیا
مدینے کی فضاؤں سے درِ اقدس پہ آ پہنچا
بڑی خوبی تھی منظر میں جو چہرے پر نکھار آیا
سخی شاہِ زماں داتا رسولِ جانِ ما آقا
خیال آیا مدینے کا جو رونا زار زار آیا
مجھے جنت لگیں سارے گلی کوچے مدینے کے
منور دیکھی جب مسجد مجھے پھر اعتبار آیا
بڑے عمدہ زمانے ہیں جو گزریں یادِ دلبر میں
لگے محمود کچھ لمحے مدینے میں گزار آیا

0
1
5
مختصر اور دقیق خلاصہ

یہ نعتِ شریف مدینۂ منورہ سے والہانہ محبت، حضورِ اکرم ﷺ کی یاد، اور مدینے کی روحانی برکت و جمال کا اظہار ہے۔ شاعر کے دل میں مدینہ بار بار آتا ہے اور اس کی خوشبو و یاد اسے قلبی سکون عطا کرتی ہے۔ مدینے کی گلیاں، فضائیں اور مسجدِ نبوی ﷺ اسے جنت کا منظر محسوس ہوتی ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ کی محبت میں رونا، یاد میں گزرے لمحات کو قیمتی سمجھنا، اور مدینے کی زیارت کو خوش بختی تصور کرنا اس نعت کا مرکزی جذبہ ہے۔

مرکزی خیال:
مدینۂ منورہ کی محبت اور یاد، حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت کے ذریعے دل کو سکون، نور اور روحانی سرور عطا کرتی ہے۔

0