ہر دن نئی غزل کا تقاضہ کرے ہے دل
یادوں کو بوریوں میں سلیقے سے باندھ کر
ذہن و جگر میں ان کا ذخیرہ کرے ہے دل
چارہ گری کے فن میں یہ ماہر ہے دوستو
زخمِ جگر نظر کا مداوا کرے ہے دل
حسرت نہ خواہشیں نہ تمنائیں بے شمار
جو کچھ ملے اسی پہ گزارا کرے ہے دل
جب جب بھی میں نے پوچھا ہے آسان راستہ۔۔!
ہر بار سمتِ غیب اشارہ کرے ہے دل
حسن و ادا و عشق کے جھانسے میں ڈال کر
اہلِ خرد کو پل میں دوانہ کرے ہے دل
سورج سے لے کے ہر گھڑی الفت کی روشنی
عالم ؔ میں ہر ڈگر پہ اجالا کرے ہے دل
آفتاب عالم شاہ نوری

0
1