تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
درد کا مارا ہوا وہ شخص ہوں میں
جس کو تم نے عشق میں دھوکا دیا تھا
میرے حصے میں فقط تنہائیاں تھیں
تیرے حصے میں تھیں ساری ہی دعائیں
لب پہ تیرے تذکرہ رہتا وفا کا
دل میں لیکن پرورش پاتی جفائیں
ہاں کبھی مجھ کو گلہ تھا شاعری سے
آج لفظوں میں بکھر جاتا ہوں اکثر
جب قلم آنسو کو لفظوں میں پروئے
اپنے زخموں سے گزرتا ہوں برابر
واہ میری شاعری پر کر رہے ہو
درد کی قیمت مگر سمجھی نہیں ہے
جس نے آنکھوں سے لہو بہتا نہ دیکھا
اس نے اشکوں کی زباں سمجھی نہیں ہے
خیر اب اتنا ہی کہنا ہے تمہیں بس
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
اپنے زخموں کا فقط مظہر نہیں ہوں
میں نے لفظوں میں لہو اپنا اتارا
یوں ہی مشہورِ سخن ٹھہرا نہیں ہوں
میں غزل لکھتا نہیں جیتا ہوں ان کو
اس لیے لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں

0
1