عمر بڑھتی رہی رزق گھٹتا رہا
آدمی قبر کی سمت بڑھتا رہا
صبح سے شام کی، شام سے صبح کی
وقت ہاتھوں سے یوں ہی پھسلتا رہا
رفتہ رفتہ مرا دل سنبھل ہی گیا
دیر تک میں تری راہ تکتا رہا
یہ جہاں عارضی سا سرائے تھا بس
میں جسے اپنی منزل سمجھتا رہا
زندگی کا ہیں حصہ یہ رنج و الم
ہے تعجب، میں کیوں ان سے ڈرتا رہا
حال بکھرا ہوا ہے مرا اس لیے
میں تو ماضی میں اب تک بھٹکتا رہا
یہ جہاں مجھ کو نفرت سے تکتا رہا
میں محبت کی راہوں پہ چلتا رہا
ہر تعلق ہی میرے لیے خاص تھا
میں تو رشتوں کے پھولوں کو چنتا رہا
شہر بھر کی تھی آب و ہوا ایک سی
میں در و بام یوں ہی بدلتا رہا
خوش تو دِکھتے تھے قیدی انا کے مگر
ہر کوئی اپنے اندر سسکتا رہا
جو حوادث تھے تقدیر میں وہ ہوئے
گردشِ وقت سے میں الجھتا رہا

0
3