غزل
جو خود سچے ہیں، ساری خلق کو سچا سمجھتے ہیں
جو جھوٹے ہیں، وہ سارے شہر کو جھوٹا سمجھتے ہیں
تعصب ایک دیمک، چاٹ جائے جو دماغوں کو
یہ کالی اور بھوری نسل کو ادنیٰ سمجھتے ہیں
اگر اخلاق و برتاؤ میں وہ عالی نہیں ہم سے
تو کس بنیاد پر خود کو مرا آقا سمجھتے ہیں
نہ آنکھیں خواب بنتی ہیں، نہ سینے دل دھڑکتا ہے
حقیقت میں، ہمیں وہ کاٹھ کا پتلا سمجھتے ہیں
نمائش کے ، تفاخر کے، نہیں قائل، مگر سچ ہے
جبیں کے داغ کو اپنے یئیں تمغہ سمجھتے ہیں
ہمیں تم دوستانے میں اگر کڑوی کہو تب بھی
محبت کی رعایت سے اسے میٹھا سمجھتے ہیں
یقیناً کچھ کجی تو ہے بصارت میں، بصیرت میں
وہ ہم جیسے جواں سالوں کو بھی بوڑھا سمجھتے ہیں
مرے احباب میں کچھ لوگ ایسے ہیں شہاب احمد
جنہیں سیدھا بتاتا ہوں، مگر الٹا سمجھتے ہیں
شہاب احمد
۱۷ جنوری ۲۰۲۶

0
3