قوم کی جب فکر ہو جائے خراب
کارواں اس کا رہے در پیچ و تاب
دل کے سینے سے اگر یہ سوز جائے
ساز کی ہر اک صدا خاموش پائے
موت ہے ملّت کی گر کھوئے خودی
پستی آتی ہے فقط بے جانگی
علمِ بے سوز ایک زنجیرِ زبوں
عقلِ بے عشق اک فسوں در دامِ جوں
جس نے اپنے سر کو دامن میں چھپایا
رہروِ ماضی سے کیا اس نے ہے پایا؟
اٹھ! پرانی بزم میں اک شور بھر
اپنے دم سے قالبِ نو روح کر
پھر مسلماں گر سنبھالے سازِ دیں
کانپ اٹھے سجدے سے تختِ زمیں
کہہ گیا ہمراز یہ دل سوز بات
روشنی بن کر مٹائے ظلمتِ رات

0