اشک آنکھوں سے بہانے کی ضرورت کیا ہے
اب مراسم اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
تیرے پہلو میں اگر دل کو ٹھکانا مل جائے
پھر کسی اور ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے
لزَّتِ غم سے نہ محروم کرو یوں مجھ کو
دل کے زخموں کو مٹانے کی ضرورت کیا ہے
ڈوب کر آنکھوں میں جب تیری نشہ ہوتا ہو
جام ہونٹوں سے لگانے کی ضرورت کیا ہے
تیری نظروں کے اشارات سمجھ جاتے ہیں
لب کو لب سے یوں ہلانے کی ضرورت کیا ہے
تم کہ بستے ہو مری روح کے ہر گوشے میں
تم کو سینے سے لگانے کی ضرورت کیا ہے
گر نباہو تو ہو مجروح جو عصمت تیری
ایسے وعدے کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے
بند آنکھوں سے بھی محسوس تجھے کرتا ہوں
رخ سے پردے کو ہٹانے کی ضرورت کیا ہے
آتشِ ہجر جلاتی ہو جنہیں ہر لمحہ
آشیاں ان کے جلانے کی ضرورت کیا ہے
جب نہیں بس میں ترے میرا مداوائے غم
حال دل تجھ کو سنانے کی ضرورت کیا ہے
میں مقابل ہوں جو کعبے کے تو حاصل سب ہے
سر کو سجدے سے اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
چل پڑے ہم ہیں رہِ مرگ پہ ہو کر رسوا
اب کوئی آۓ تو آنے کی ضرورت کیا ہے
مجھ کو عشیار میسر ہیں خزانے غم کے
مجھ کو نادار زمانے کی ضرورت کیا ہے

0
1