بہت سے چہروں میں اپنا گماں نہیں ملتا
کبھی کبھی تو خود اپنا نشاں نہیں ملتا
وہ بچپنا جو گلی میں کہیں پہ چُھوٹا تھا
پھر عمر بھر بھی ہمیں وہ وہاں نہیں ملتا
عجیب شہر ہے، آواز سب کی سنتا ہے
مگر کسی کو یہاں رازداں نہیں ملتا
یہ عمر ریت کی مانند سرکتی رہتی ہے
پلٹ کے دیکھو تو گزرا سماں نہیں ملتا
جو بات آنکھ سمجھ لے، زباں سے کیوں کہیے
ہر ایک درد کو آخر بیاں نہیں ملتا
بہت سے لوگ مری خامشی سمجھتے ہیں
مگر کسی کو مرا ترجماں نہیں ملتا
خدا کو ڈھونڈنے نکلے تو یہ خبر بھی ہوئی
ہر ایک در پہ وہی آسماں نہیں ملتا

0
1