زخمی دلوں کا واقف و پرساں رہا ہوں میں
کب اپنے دل کے درد کا درماں رہا ہوں میں
ہے اعترافِ جرم سرِِ عام برملا
اپنے گماں کی قید کا نگراں رہا ہوں میں
قسمت میں کب تھا حال کے احوال دیکھتا
کل کی مہیب سوچ سے ترساں رہا ہوں میں
ہستی کے بت کدے میں صنم دیکھتے رہے
راہِ عدم پہ شوق سے گرداں رہا ہوں میں
زخموں سے چور ہو کے بھی شکوہ نہ کر سکا
تقدیر کے مذاق پہ خنداں رہا ہوں میں
گزرے بہت نگاہ سے منظر کمال کے
ٹھہرا نہیں کہ صورتِ مہماں رہا ہوں میں
انجم تمہارے ساتھ تو چلنا محال تھا
درماندہ اور واصلِ حرماں رہا ہوں میں

0
3