| کسی کے غم میں اگر ہو کمی تو اچھا ہے |
| کسی کے لب پہ رہے کچھ ہنسی تو اچھا ہے |
| کبھی جو دل کی کوئی بات کہہ نہ پائیں ہم |
| نگاہ پڑھ لے یہی خامشی تو اچھا ہے |
| بہت دنوں سے جو اک دوسرے سے روٹھے ہیں |
| وہ پھر سے کر لیں ذرا دوستی تو اچھا ہے |
| سفر میں ساتھ نہ دے کوئی عمر بھر بے شک |
| ملے جو راہ میں کچھ ہمدلی تو اچھا ہے |
| ہر ایک شخص کی خاطر بدل نہ جائیں ہم |
| رہے مزاج میں کچھ سادگی تو اچھا ہے |
| نہ نام چاہیے شاہدؔ، نہ کوئی داد ہمیں |
| کسی کے کام گر آئیں کبھی تو اچھا ہے |
معلومات