| گو چھین ہی لی تم نے تقدیر ہماری ہے |
| تعمیر بھی کہتی تھی تعمیر ہماری ہے |
| دونوں ہی طرف والے حق جس پہ جتاتے ہیں |
| یہ کہ دے کوئی ان سے جاگیر ہماری ہے |
| رب نے جنہیں دولت دی خوشحالی عطا کر دی |
| وہ لوگ سمجھتے ہیں تدبیر ہماری ہے |
| کہتا ہے جہاں جس کو الفت کی نشانی ہے |
| وہ تاج محل یاروں تعمیر ہماری ہے |
| نالے یہ ندی جھرنے یہ کوہ یہ شادابی |
| وادی میاں گلشن سی کشمیر ہماری ہے |
| ہم اہل محبت ہیں ہم امن کے پیکر ہیں |
| دنیا میں جدا سب سے تشہیر ہماری ہے |
| وہ جس کے لئے ہم نے قربان کیا سب کچھ |
| وہ ہاتھ نہیں آیا تقدیر ہماری ہے |
| شاہد ہیں نظارے بھی یہ چاند ستارے بھی |
| ہر شمع محبت میں تنویر ہماری ہے |
| ہم اپنے بزرگوں کی دستار نہ بیچیں گے |
| یہ ہی تو میاں اظہر توقیر ہماری ہے |
معلومات