غزل
رنج کے ساتھ، کچھ خوشی بھی ہے
مشکلوں ہی میں دل کشی بھی ہے
چند جُگنو ابھی فروزاں ہیں
ظُلمتیں ہیں تو روشنی بھی ہے
گو، کٹھن ہیں یہ منزلیں لیکن
ساتھ تم ہو یہ سر خوشی بھی ہے
رنج و دکھ ہیں ملال ہیں لیکن
لب و رخسار و چاشنی بھی ہے
مسکراؤ خلا کو پُر کر دو
گر خوشی میں ذرا کمی بھی ہے
وہ ملائک ہیں پارسا، ہوں گے
مجھ میں در پردہ آدمی بھی ہے
َ
خوبیاں صد ہزار ہیں، لیکن
وصفِ آدم میں آزری بھی ہے
فکر و فن میں ترے شہاب احمد
ایک خوش رنگ تازگی بھی ہے
شہاب احمد
۱۸ جنوری ۲۰۲۶

0
2