نبی کا ہے ڈنکا صدا کن فکاں
نہ ہوتے اگر وہ نہ ہوتے جہاں
نبی کے جہاں سارے لولاک سے
رواں امرِ کن سے ملیں پھر زماں
یہ زینت دہر کی نبی کے لئے
مگر نورِ جاں سے ہیں اس کے نشاں
ورودِ نبی سے ضیا چار سو
انہی کے قدم سے سجے لامکاں
بنی نوعِ انسان بھولی تھی راہ
دکھائے نبی نے انہیں گلستاں
بصیرت کو سرمہ اُنہی سے ملا
لگیں جس سے چودہ طبق ضوفشاں
ہے گھر مصطفیٰ کا منور مکاں
سلام اُن پہ بھیجیں سدا دل زباں
ثنائے نبی سینے کی چاندنی
ہیں مدحت سے محمود روشن جہاں

1
7
مجموعی خلاصہ
اس نعت کے مرکزی عقائد:
تخلیقِ کائنات کی غایت حضور ﷺ
نورِ محمدی ﷺ
ہدایتِ انسانیت
معراج و رفعتِ مصطفیٰ ﷺ
درود و سلام کی فضیلت
مدحتِ رسول ﷺ سے قلبی نور
یہ تمام مضامین قرآن، حدیث اور صوفیانہ نعتیہ روایت سے ماخوذ ہیں

0