مرے گھر یقیں کی حکومت رہی تھی
سوالوں پہ برسوں ملامت رہی تھی
کسی دن مجھے یہ گماں ہو گیا تھا
کہ جو کچھ ملا تھا، مرا تو نہیں تھا
کتابیں مجھے شک سکھانے لگی تھیں
مرا ذہن میرا مخالف ہوا تھا
مجھے علم سے کچھ نئے شک ملے تھے
حقیقت کسی کی امانت نہیں تھی
کبھی میں پرانے مکاں پر گیا تھا
وہاں پر کسی کا نشاں تک نہیں تھا
عجب تھا کہ مجھ کو گلہ بھی نہیں تھا
مجھے بھی طلب کی وراثت ملی تھی

0
3