غلطی سے اک کمرازن سے اک دن آنکھیں چار ہوئی |
غلطی سے بھی یہ مت سمجھو غلطی پہلی بار ہوئی |
ہم نے اپنے دل کی چاہت خاموشی سے پہنچا دی |
نازک سی اک چشمِ بلا سے ٹکرا کے لاچار ہوئی |
آنکھیں تھوڑی بھر آئی تھیں کاجل تھوڑا پھیلا تھا |
لوگوں نے افواہ اڑائی شہزادی بیمار ہوئی |
اپنی نییا خاموشی سے دھوپ کنارے ڈوب گئی |
ان کی کشتی طغیانی میں صحیح سلامت پار ہوئی |
ہجر ملا تو چن کر لائے کانٹے اپنے حصے کے |
جانے وہ پھولوں کی ڈالی کس کے گلے کا ہار ہوئی |
سُن شاعر شؔیدا کا پھیکا موسم کیسے مہک اٹھا |
اس کی زلف کی خوشبو لکھی غزلوں کے اشعار ہوئی |
معلومات