نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا
خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا
ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا
لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
محبت میں کوئی اس سے بڑا درجہ نہیں ملتا
بہت آواز دیتے ہیں اُسے اہلِ محبت بھی
جِسے نفرت کے جنگل میں کوئی رستہ نہیں ملتا
سبھی چہروں پہ ہیں پہرے، سبھی لہجوں پہ تالے ہیں
کسی کے دل تلک جانے کا دروازہ نہیں ملتا
زمانے بھر کی رونق بھی سبھی کچھ پاس ہے اپنے
مِری آنکھوں کو پھر بھی چین کا لمحہ نہیں ملتا
بہت سے لوگ ملتے ہیں، تعلق بھی نبھاتے ہیں
مصیبت میں مگر اکثر کوئی اپنا نہیں ملتا
ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں سچ بات کہنے کو
بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا
حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا
بہت لکھتا ہے تُو جاویدؔ ! دل کی وارداتوں کو
مگر ہر شخص کو یہ درد کا لہجہ نہیں ملتا

4