| ہے وظیفہ مرا آپ کے نام کا |
| خوف رخصت ہوا اپنے انجام کا |
| وقت رک سا گیا آپ کو دیکھ کر |
| ہوش جاتا رہا صبح کا شام کا |
| آپ کی یاد میں تھے رواں عمر بھر |
| فاصلہ رہ گیا ایک دو گام کا |
| زندگی کا سفر چار دن ہی سہی |
| پھر بھی اتنا سفر اپنے کس کام کا |
| ہم کو خوئے ملامت ہی خوش آ سکی |
| کھینچئے سلسلہ اور الزام کا |
| لوگ مجھ کو سمجھنے لگے آپ کا |
| ہو ازالہ کبھی ان کے ابہام کا |
معلومات