| ہیں نورِ ذاتِ یزداں چادر بشر کی ہے |
| تصویر خود بتائے کس کے ہنر کی ہے |
| عالم ہیں کن فکاں کے شاہد بھی آپ ہیں |
| باندی سدا فصاحت انہی کے در کی ہے |
| آقا قرارِ جاں ہیں دلدارِ کبریا |
| روشن نبی سے قسمت سارے دہر کی ہے |
| پہنچی کبھی نہ دانش ادراکِ عشق تک |
| یہ بات سوزِ دل اور ظرفِ نظر کی ہے |
| لیل و نہار تاباں نورِ نبی سے ہیں |
| آسودگی اسی سے شام و سحر کی ہے |
| پھیلا ہے جلوہ ہر سو اُن کے جمال کا |
| تابندگی اسی سے شمس و قمر کی ہے |
| بندوں میں مصطفیٰ کے محمود نام ہو |
| رکھے جو لاج داتا ہر چشمِ تر کی ہے |
معلومات