ہیں نورِ ذاتِ یزداں چادر بشر کی ہے
تصویر خود بتائے کس کے ہنر کی ہے
عالم ہیں کن فکاں کے شاہد بھی آپ ہیں
باندی سدا فصاحت انہی کے در کی ہے
آقا قرارِ جاں ہیں دلدارِ کبریا
روشن نبی سے قسمت سارے دہر کی ہے
پہنچی کبھی نہ دانش ادراکِ عشق تک
یہ بات سوزِ دل اور ظرفِ نظر کی ہے
لیل و نہار تاباں نورِ نبی سے ہیں
آسودگی اسی سے شام و سحر کی ہے
پھیلا ہے جلوہ ہر سو اُن کے جمال کا
تابندگی اسی سے شمس و قمر کی ہے
بندوں میں مصطفیٰ کے محمود نام ہو
رکھے جو لاج داتا ہر چشمِ تر کی ہے

0
3