| عطائے نبی کے اشارے ہوئے |
| تھے ذرے مگر آج تارے ہوئے |
| جسے چاہیں دل سے نبی مصطفیٰ |
| خدا کی نظر میں وہ پیارے ہوئے |
| ملا عشقِ احمد جسے خیر سے |
| اسی کے ہیں طالع نیارے ہوئے |
| نہیں قہر طوفان اس کے لئے |
| جسے اُن کے حاصل سہارے ہوئے |
| یہ اعجاز ہے فیضِ سرکار سے |
| جو مومن کے بیڑے کنارے ہوئے |
| کرم سے خدا کے ملے مصطفیٰ |
| یوں محبوبِ خالق ہمارے ہوئے |
| ہے یادِ نبی ظلمتوں میں چراغ |
| غموں کے یوں کافور دھارے ہوئے |
| ملے فیضِ یزداں اسے کرم سے |
| مدینہ کے جس کو نظارے ہوئے |
| فدائے نبی ہے یہ محمود بھی |
| کہ مولیٰ علی اس کے پیارے ہوئے |
معلومات