کیا کوئی ایسے بھی اِنسان ہوا کرتے ہیں؟
راہِ اُلفت میں جو قربان ہوا کرتے ہیں
بیچ دیتے ہیں جو لالچ میں مسیحا اپنے
بے وفائی کی وہ پہچان ہوا کرتے ہیں
تو سمجھتا ہے محبت ہے سفر گلشن کا
راستے عشق کے سنسان ہوا کرتے ہیں
عشق آسان نبھانا ہے کہاں دنیا میں
اِس کے تو اپنے ہی پیمان ہوا کرتے ہیں
کتنا آسان ہے یہ کہنا ’چلے جاؤ ابھی‘
ایسی عُجلت میں تو نقصان ہوا کرتے ہیں
جن کی غزلوں میں عجب رنگِ سخن ہوتا ہے
ہاں وہی صاحبِ الحان ہوا کرتے ہیں
اُس کو جاوؔید ! بھُلاؤں تو بھُلاؤں کیسے؟
کیونکہ اپنے بھی تو ارمان ہوا کرتے ہیں

0
7