کرم کی نظر ہو حبیبِ خدا
حبیبی کریمی سجن جانِ ما
گناہوں سے بھوجل ہے داماں ہوا
ہو درماں دکھوں کا سخی دلربا
میں بیمارِ حجرِ نبی ہو شہا
مدینے میں آؤں ملے پھر شفا
غمِ حشر سے میں پریشان ہوں
طلب ہے شفاعت اے صلے علیٰ
یہ آباد دل ہو حسیں یاد سے
چکھیں آنکھیں میری مزا دید کا
سجیں ذکرِ جاناں سے یہ رات دن
اے داتا گدا کی سنیں التجا
کریمی کرم کر دیں محمود پر
ہو وردِ زباں نامِ نامی سدا

1
8
خلاصہ
یہ نعت ایک عاجزانہ مناجات ہے جس میں:
عشقِ رسول ﷺ کا اظہار
گناہوں کا اعتراف
مدینہ کی حاضری کی آرزو
قیامت کے دن شفاعت کی طلب
ذکر و درود کی کثرت کی دعا
روحانی شفا اور دل کی زندگی کی تمنا
شاعر مکمل طور پر حضور ﷺ کی رحمت، شفاعت اور کرم پر اعتماد کرتا ہے۔
یہ کلام عقیدۂ شفاعت، محبتِ رسول ﷺ، اور ذکر و درود کی فضیلت پر مبنی ہے۔

0