مری تنہائی مجھ سے آشنا تھی
مری محفل مگر مجھ سے جدا تھی
وہ جس کو اپنی کمزوری میں سمجھا
وہی شاید مری آخر بقا تھی
مجھے جس شخص سے شکوہ بہت تھا
مری اپنی بھی اس میں کچھ خطا تھی
میں سب کچھ پا کے بھی خالی کھڑا تھا
مری خواہش ہی شاید لاپتا تھی
پرانا خط کہیں سے آج نکلا
مری خاموشیوں کی اک صدا تھی
ہتھیلی پر پرانی ایک چابی
وہ میرے گم شدہ گھر کا پتا تھی
میں دروازے پہ دستک دے رہا تھا
مری اپنی ہی آہٹ گمشدہ تھی
میں آئینے کے آگے دیر تک تھا
مری صورت بھی اب مجھ سے خفا تھی

0
5