ہم نے تجھے جانِ جاں پلکوں پہ بٹھا رکھا
ہر ایک ستم سہہ کے ہر ناز اٹھا رکھا
وہ حال مرے دل کا جانے گا بھلا کیسے
غیروں کو سدا جس نے دل میں ہے بسا رکھا
اُس حُسنِ ستمگر کی یہ خاص عنایت تھے
دل کے سبھی داغوں کو سینے میں چھپا رکھا
بن مانگے ہی دامن میں بھر دیتا ہے موتی جو
وہ ایک خدا ہم نے دل میں ہے بسا رکھا
پھر آتشِ عبرت میں حسرت سے جلے گا وہ
ہو ظلم و ستم جس نے دنیا میں روا رکھا
پہرہ ہو محبّت کا ، تو باغِ عدن ہیں گھر
نفرت نے گھروں کو تو دوزخ ہے بنا رکھا
پروانوں کو رونے کا آیا نہ سلیقہ جب
تو شمع نے رونے کا ہے بار اٹھا رکھا
وہ زہد کے چولے میں اترائیں جفاؤں پر
جو دین محبّت تھا اسم اس کا جفا رکھا
نغماتِ مسرّت کیا دنیا کو سناتے ہم
ہر روز نئی حسرت دفنا کے دیا رکھا
دیوانگی کیا شے ہے جانا نہ رقیبوں نے
یاں صورتِ جاناں نے ہر کام بُھلا رکھا
آئینۂ الفت پر برسے تھے بہت پتھر
سارے ہی لیئے دل پر الفت کو بچا رکھا
ہر دور کے حاکم کا ہر جبر سہا لیکن
شاہوں کو کبھی ہم نے اپنا نہ خدا رکھا
شکوہ نہ شکایت ہے اپنوں سے نہ غیروں سے
ہم نے تو حسَن لب پر بس حرفِ دعا رکھا

0
1