ہم اپنی ذات کو خود ہی سلام کرتے رہے
عجیب کام تھا جو صبح شام کرتے رہے
وہ پوچھتے تھے کہ آخر ہے زندگی کیا شے
ہم ایک شخص کا قصہ تمام کرتے رہے
ہمیں خبر تھی کہ انجام کچھ نہیں ہوگا
مگر امید کا پھر احترام کرتے رہے
وہ چاہتے تھے کہ ہم ان کے بعد مر جائیں
ہم ان کے بعد بھی جینے کا کام کرتے رہے
ہمیں تو اپنی صداقت پہ بھی یقیں نہ ہوا
سو اپنے جھوٹ کا بھی اہتمام کرتے رہے
خدا سے بحث میں کیا کچھ نہ کھو دیا ہم نے
ہر ایک وہم کو اپنا امام کرتے رہے
ہمیں تو خود سے محبت کا فن نہ آ پایا
سو دوسروں کے لیے خود کو عام کرتے رہے
وہ ایک شخص جو شاید گمان تھا میرا
ہم اس کے نام پہ خود کو تمام کرتے رہے

0
1