گلستاں میں پھولوں نے رنگِ نمو پا لیا
کرم ہے کہ قسمت نے رخ اب بدل سا لیا
قدم نیک اٹھاؤ تو منزل ملے گی تمہیں
کہ جس نے بھی چاہا اسے دل میں بسا لیا
اجالا ہے دل میں تمہارے ہی کرم سے میاں
محبت کی راہوں کو ہم نے سجا لیا
یہ خوشبو یہ رنگت یہ دلکش سا سارا جہاں
گلستانِ ہستی کو دل میں بسا لیا
ہواؤں کے سنگ اڑتی پتوں کی یہ شوخیاں
انہیں خواب بن کر ہی ہم نے سجا لیا
ترے رخ کی تابانیوں سے ہوئی ہے بہار
اک ادنیٰ کرن نے اندھیروں کو مٹا لیا
تبسم میں پنہاں ہیں ساری جہاں کی خوشیاں
حقیقت کو ہم نے بھی اب تو دکھا لیا
یہ دل تیری سیرت کا اب تو پجاری ہوا
حقیقت کا رنگ اب تو ہم نے چڑھا لیا
دیا دل نے "خاکی" یہی سادہ سا اک پیام
محبت میں جینا ہی ہم نے مزہ پا لیا

0
5