غم کے آثار مٹائیں گے چلے آؤ تم
اپنے اشعار سنائیں گے چلے آؤ تم
چھوڑ دو تم بھی جفا اور وفا کی باتیں
اک جہاں اور بسائیں گے چلے آؤ تم
داستاں اپنی محبت کا رقم کرکے ہم
اہل دنیا کو بتائیں گے گے چلے آؤ تم
دل کی دنیا ہی بدل جائے وہی کام کریں
سارے دستور مٹائیں گے چلو آؤ تم
یہ مبارکؔ ہے پریشان کوئی بات نہیں
غم کو اک ساتھ بھلائیں گے چلے آؤ تم

0
28