| غم کے آثار مٹائیں گے چلے آؤ تم |
| اپنے اشعار سنائیں گے چلے آؤ تم |
| چھوڑ دو تم بھی جفا اور وفا کی باتیں |
| اک جہاں اور بسائیں گے چلے آؤ تم |
| داستاں اپنی محبت کا رقم کرکے ہم |
| اہل دنیا کو بتائیں گے گے چلے آؤ تم |
| دل کی دنیا ہی بدل جائے وہی کام کریں |
| سارے دستور مٹائیں گے چلو آؤ تم |
| یہ مبارکؔ ہے پریشان کوئی بات نہیں |
| غم کو اک ساتھ بھلائیں گے چلے آؤ تم |
معلومات