دل کو دکھوں کے زہر میں دھونا ہے زندگی
یادوں کا بوجھ کندھوں پہ ڈھونا ہے زندگی
سب جال خواہشات نے ڈالے ہیں چار سو
رب کی رضا میں خود کو ڈبونا ہے زندگی
شیطاں کے راستے پہ چلے تو یہ خاک ہے
گزرے جو رب کے در پہ تو سونا ہے زندگی
نفرت کی جڑ نکال کے دامن کو جھاڑ کے
چاہت کے بیج روح میں ہونا ہے زندگی
محفل میں مسکرانا سبھی دوستوں کے ساتھ
گوشے میں رب کی یاد میں رونا ہے زندگی

0
2